top of page
Search

قصہِ امراؤ جان

جب کہ زندگی تقریباً آدھی سے زیادہ گزر چکی ہے، عمر کے آِس پڑاو پہ میں سنجیدہ ہو گیا ہوں۔ ویسے گزری زندگی بھی کم سنجیدہ نہیں رہی، نس اب حقیقت سے دو چار ہو کر جو تجربات حاصل کر لیے ہیں وہ زندگی کو ترتیب میں بناۓ رکھتے ہیں۔ زندگی تیری زلفوں کے خم و پیچ سے کم نہیں۔ سلجھاتے سلجھاتے کب یہ عمر شام کو جا پہنچتی ہے معلوم ہی نہیں پڑتا۔


شراب خانے میں آے تے ہنسے کھیلتے فراق

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گۓ



خیر آج آپ کو ایک پرانا قصہ بیان کرتا ہوں۔ یہ قصہ ہے طوٌف امراؤ جان ادا کا۔ اُن دنوں اُن کے کلام اُس دور کے رسالوں میں چھپا کرتے تھے۔ بات اٹھارویں صدی کے آخیر اور انیسویں صدی کے شروع کے دور کی ہے۔ اُن کے ایک آشنا تے مرزا ہادی علی رسوا۔ انہیں کو ایک بار انہوں نے اپنا قصہ تفصیل سے بیان کیا تھا۔ مرزا نے وہ قصہ ناول کی شکل میں شایا کروایا۔ امراؤ جان کی زباں میں؛


کاکو سنائں حالِ دلِ زار اے ادا

آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی


امراؤ جان کا اسل نام امیرن تھا۔ انکی پیدائش فیض آباد کے ایک معمولی پریوار میں ہوئ۔ ایک بدمعاش دلاور خان کے خلاف اُس کے باپ نے گواہی دی تھی۔ اُسی نے رِہا ہونے کے باد بدلا لینے کے طور پہ امیرن کو اغوا کر لیا اور اُسے لکھنو کی مشحور طوٌف خانم جان کے ہاتھ ڈیڑ سو رپے میں بیچ دیا۔ خانم نے امیرن کا نام بدل کر امراؤ رکھ دیا۔


لطف ہے کون سی کہانی میں

آپ بیتی کہوں یہ جگ بیتی


کچی عمر کی اُس لڑکی پہ کیا بیتی، یہ سب جانتے ہیں۔ مگر اُس کے ماں باپ پہ کیا گزری یہ سوچ کہ دل بھر آتا ہے۔ طوٌف بننا آُسکی خوشی نہ تھی، مجبوری تھی۔ اس سب کے باوجود اُنہوں نے نہ سرف موسیقی بلکہ اردو اور فارسی کی بھی مکمل تعلیم حاصل کی۔ الف، بے کے باد اسنے فارسی کی وہ شروع آتی کتابیں — کریما، مامکیما، محمود نانا، سرفراں وغیرہ پڑیں۔ اِسی کی بدولت اسنے امیروں، رٌسوں کی محفلوں میں جگہ پای۔ شاہی درباروں میں جانے کا حوصلہ پایا۔


نہ پوچھو ناماِ مال کی دل آویزی

تمام عمر کا قصہ لکھا پایا


خیر قصہ یوں مختصر پایا جاۓ کہ امراؤ کی جوانی میں ہی دلاور خاں پکڑا گیا اور وہ بھی جب ایک بار گومتی کنارے سیر کہ روز امراؤ نے اُسے دیکھ لیا اور نشان دیہی پہ تھانیدار نے ملکہ گنج سے رات تین بجے گرفتار کر لیا۔ دو مہینے باد اُسے پھانسی کی سزا ہوئ۔ اور یوں دلاور خان جہنم کو روانہ ہؤا۔


ہم بھی ہیں مختار لیکن اس قدر ہے اختیار

جب ہوۓ مجبور تو قسمت کو برا کہنے لگے


خیر، انساں کا بس چلے تو مقدر خرید لے۔ مگر یہ ممکن نہیں ہے۔ زندگی کہ کچھ قصے اتنے سچے ہیں کہ کلپنا جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ یہی تو خوبی ہے زندگی کی۔ اصلی نکلی اور نکلی اصلی معلوم دیتا ہے۔


ہم کو بھی کیا کیا مزے کی داستانیں یاد تھیں

لیکن اب تمہیدِزکرِ درد و ماتم ہو گیں


تقریباً دو سو سال پہلے لکھنو میں ایک کلن صاب ہوا کرتے تھے۔ انگریز تھے اور نام تھا جان کالینس۔ وہ کلن کی لاٹ میں دفن ہیں اور لاٹ کلن علاقہ بھی اُسی نام سے مشہور ہے۔ کلن کا بھوت بھی بڑا مشہور تھا جو رات میں وہاں سے گزرنے والوں سے کہتا تھا، "امکو مکن روٹی مانگٹا"۔

مگر وہ قصہ پھر کبھی۔





3 views0 comments

Recent Posts

See All

نظم

コメント


bottom of page